Monthly Archives: July 2012

بچپنا


بچپنا

کسی بچے کی مانند اس کی آنکھوں میں
شرارت تیرتی ہے یوں
کہ جیسے زندگی کے پانیوں پر اک
محبت کا پرندہ تیرتا ہو اور
اسے دو پل ٹھہر کر سانس لینے کو
مُیَسّر ہو نہ کوئی اک جزیرہ بھی
مگر وہ مسکراتی ہوں

انہی آنکھوں کے آنگن میں
کسی کو چاہنے کا اک تصوّر رقص کرتا ہو
کبھی رقصاں، کبھی ساکت
کبھی جھومے مسرّت میں
کبھی مبہوت رہ جائے
مگر اٹکھیلیاں کھیلے
محبت کے حسیں، اس نیلے آنگن میں
سیہ، روشن درختوں میں کہیں چُھپ کر
کہیں سے چاند کی صورت ذرا سی رونمائی کو
نکل آئے
دبا کر ہونٹ دانتوں میں
کہیں محبوب کو ڈھونڈے
اُسے پاکر پھر اس کی اور بڑھ جائے
مگر اُس کے پلٹنے سے بھی پہلے خود پلٹ جائے
درختوں میں کہیں چھپ کر
یہی اٹکھیلیاں کھیلے

اگر آنکھوں کے اس نیلے سمُندر پر
شرارت، تیرنے والی
جزیرے کے کہیں مٹتے ہوئے آثار بھی پالے
تو دم لینے کو اترے اور
اُسے یہ گیان حاصل ہو
کہ اُس کا بچپنا تو مُدتوں پہلے
خود اس نیلے سمُندر میں پھسل کر ڈوبتے لمحے
ذرا سا مسکرایا تھا
بھیانک خواب کی صورت

Bachpana

Kisi bachay ki maanind os ki aankhoN main
Shararat tairtii hay yuN
K jesay zindagi k paanioN par ik
Muhabbat ka parinda tairta ho aor
Osay do pal theher kar saans lenay ko
Muyassar ho na koi ik jazeera bhi
Magar wo muskurati hoN

in roman, continue reading

بے بسی


بے بسی

محبت میں اپنے اونچے منصب سے اتر کر
میں تیری چاہت کی منزل کی طرف
ایک سال خوردہ کچھوے پر
باگیں کسنے کے بعد
ممکنہ تیزرفتاری سے محو سفر ہوچکا ہوں
کیا تیری بنائی ہوئی آگ، مٹی، ہوا اور پانی
یہ سب دیکھ کر
تجھ سے سرگوشی کرنے کی جراءت کرتے ہیں
کہ ولادت کے دن سے
ہماری گرفت میں آیا ہوا
تیرا دیوانہ کتنا بے بس ہے!
میری دیوقامت سواری
جب پانی پر اپنا سفر شروع کرتی ہے
تو مجھے خیال گزرتا ہے کہ
کبھی اس پر تیرا بھی تخت ہوا کرتا تھا
اور میں کچھوے کے سخت خول پر
اپنی تمام تر شکستگی کے باوجود
خود کو باربار پھسلنے سے بچا کر
اُس تخت کے بارے میں سوچتا ہوں
تو حیران ہوتا ہوں کہ
کیا وہ بھی کسی کچھوے کے خول کا بنا تھا
یا تو نے اُسے مٹی سے بنایا تھا
جیسا کہ مجھے مٹی سے گوشت پوست میں تبدیل کرکے
اور اپنا لافانی لمس عطا کرکے
عناصر اربع کے حصار میں قیدی کی طرح ڈال دیا تھا
اور اس کے در پر وقت کا بے رحم تالا مزین کردیا
اور اس قیدخانے کو
ستاروں سے روشن کرنے کے بعد
تنہائی کی سنگین راتوں کو جنم دیا
اگر ہم کسی تخلیق کار کے اندر پلنے والے خیال کے لیے۔۔۔۔
جو بالآخر تخلیق کار کے وجود سے باہر
ایک فن پارے کی صورت میں ظہور کرتا ہے
اگرچہ اس کا حقیقی عکس اس کے اندر
کسی گوشے ہی میں محفوظ رہتا ہے ۔۔۔۔
لفظ جنم استعمال کرسکتے ہیں تو
تو پھر میں کہ سکتا ہوں کہ
تنہائی کو جنم دینے والی تیری ذات ہے
جس کا پرتو مجھ جیسے ہر خاک زادے کے اندر

تباہی مچاتا رہتا ہے
خاک سے اپنی نسبت ہونے کے باوصف
میں اس خوف سے کہ کہیں ڈوب نہ جاؤں
کچھوے کے سخت خول پر
اپنی ٹانگوں کی گرفت مزید سخت کردیتا ہوں
کیا یہ عناصر اربع تجھ سے
میری بے بسی کے بارے میں سرگوشیاں کرتے ہیں
ایسی بے بسی جو
ڈوب جانے کا خوف طاری کرکے
تنہائی کی اس دیوقامت علامت کے ساتھ
مجھے نئے سرے سے چمٹنے پر مجبور کردیتی ہے!

Be-Basii

Muhabbat main apnay onchay mansab say neechay utar kar
Main teri chahat ki manzil ki taraf
Aek saal-khurda kachway par
BaagaiN kasnay k ba’d
Mumkina taizraftaarii k sath mahw-e-safar ho chuka hoN

in roman, continue reading

لمس


لمس

راگ پُروی کا لمس
کائناتی رگوں سے ٹپک کر
میرے فانی جسم کے ذرے ذرے میں
ایسے مل چکا ہے جیسے
روزِ ازل قدرت کے ہاتھوں
مشتِ خاک میں عرقِ تخلیق
اے لمس
آج تو میرا مخاطب ہے
ابدی لہر کی طرح
انسانوں کے گرد
بُنی جانے والی فضا میں
میرا وجود تیرے وجود کا متلاشی رہا ہے
تیرا وجود میرے وجود کو
اپنے نام کی طرح وہ لمس عطا کرتا ہے
جو درد اور سکون کے سنگم پر
لجلجے عرقِ تخلیق سے جنم لیتا ہے
اور اے لمس
میں تجھے
ایک وجود سے دوسرے وجود تک
تیرے سفر کے نہایت لطیف لمحات میں
کیوں نہ ٹھہر کر دیکھوں۔۔۔
کہ تجھے محسوس کرنے والے
جب ارتقائی جست بھرنے کی تمنا میں
اپنے تخلیقی سوتوں پر دیوانگی کے عالم میں
تیشہ چلاتے ہیں
اور خود میں پھوٹ بہنے کے لیے
کائنات کے عظیم الجُثہ غیر مرئ ایٹم کو
اپنے اندر پھاڑ دیتے ہیں
اور
تجھے دیکھنے کی منزل پر آتے ہیں
تو
مجسم خلش بن جاتے ہیں
اے لمس
تو ہمیشہ مسرت کے الوہی ململی پردوں میں
درد کیوں منتقل کرتا ہے۔۔۔

Lams

Raag Purvi ka lams
Kaayinaati ragoN say tapak kar
Meray faani jism k zarray zarray main
Aesay mil chuka hay jaisay
Roz-e-azal qudrat k hathoN
Musht-e-khaak main araq-e-takhleeq

in roman, continue reading

%d bloggers like this: