Monthly Archives: December 2013

برق گرنے پر


برق گرنے پر

ــ گزشتہ روز ملاوی کے دارالحکومت کے ایک ایڈونٹسٹ چرچ پر دوران عبادت آسمانی بجلی گرنے پرــ

سنیچر کے دن
جب ملاوی میں توسیعی سیشن جاری تھا
تب اُس چھت سے
‘جہاں ایک دن ہم سب کی
دکھ سے بھرے سینے میں
سانس بھرتی
‘بہت محبوب ہستی کو اٹھا لیا گیا تھا
ایک شعلہ لپکا
اورچند عبادت گزار روحوں کو
اٹھا کر لے گیا
روحوں نے دیکھا کہ
بھگدڑ میں
ان کے اجسام روندے جارہے ہیں
اور آسمان پر
شعلوں کی زبانیں کانپ رہی ہیں
زمین پر دہشت کی بارش سے
ظہور ثانی کے معتقدین
اپنی تھیولوجی بغل میں دبائے
محبوب ہستی کو مصلوب چھوڑ کر
بھاگتے جارہے ہیں
سچ کا لباس اوڑھ کر
مصلوب ہونے کا ہنر
عبادت گاہ کے فرش پر راکھ کی صورت پڑا ہے
اور میخوں پر ہتھوڑوں کی لگنے والی
ضربوں کی آوازیں
بھاگنے والوں کا
پیچھا کررہی ہیں

Barq girnay par

__ A free verse poem on lightning-bolt on an Adventist Church during a session on Saturday __

Sanature k din
Jab malawi main toseeii sasion jari tha
Tab os chat say Read the rest of this entry

آبرو کا نوحہ


آبرو کا نوحہ

ــ 30 دسمبر 2006 کو پھانسی پر چڑھنے والے صدام حسین کی ساتویں برسی پر ــ

ہوائیں
بلندیوں کو محبوب رکھنے والے
شاہینوں کو
اپنے دوش پر
اُن سربہ فلک رازوں تک پہنچانے کا
فریضہ انجام دیتی ہیں
جو زمیں زادوں کے لیے چیلنج ہیں
اگر وہ چٹانوں کو
اُلٹ دینے والے پُرقوت پروں کو
جھاڑ کر
خود کو ہوس سے محروم کرنا سیکھیں
اور سیاہ چادر تلے
دشمن پر کپکپی طاری کردینے والی
نگاہوں کو
چند آنسوؤں سے دھولیا کریں
♣♣
عیبوں کی نمایش کرتے کرتے
ہم نے اپنے وجود میں خوف کو جنم دیا ہے
اس لیے دشمن ہم پر مسلط ہے
مفتوح قومیں
ہوس کا خوش نما لباس پہن کر
اڑان کی گرمی سے محروم ہوجاتی ہیں
♣♣
اے شاہین
تو آبرو کے فلسفے کو نہ سمجھ سکا
تیری نگاہ شعلہ ساز نے
اپنے ہی خرمن کو چُنا
تیرے بازوئے ہمت نے
اپنے ہی لوگوں کی ہمت پست کردی
آبرو کا پرندہ
تیرے کندھے سے اڑتے وقت
رویا ضرور ہوگا
کہا ضرور ہوگا
میں تجھے ہم دوش ثریا کرسکتا تھا
لیکن تم نے عیبوں کے سائے میں
خوف کو جنم دے کر
خلعتِ ہوس زیب تن کرلیا
آخری لمحات میں
جب زمین سے تیرا رشتہ ٹوٹنے والا تھا
تو نے مجھے یاد کیا
لیکن تیرے دوش سے
میری نسبت ٹوٹ چکی تھی

Aabroo ka Noha

A free verse poem on 7th death anniversary of Saddam Hussein (December 30, 2006)

HawaayeN
Bulandion ko mahboob rakhnay walay
ShaaheenoN ko Read the rest of this entry

سونامی


دسمبر 26 2004 کو بحر ہند میں آنے والے سونامی کے نو برس مکمل ہونے پر

سونامی

نو برس ہوگئے ہیں
اے ہمارے پیارے سمندر
تجھ سے کوئی گلہ نہیں
لیکن تو جس طرح ہمیں پیارا ہے
یہ زمین بھی اسی طرح پیاری ہے
اور کوئی شک نہیں
اس زمین پر رہنے والے
سب سے زیادہ پیارے ہیں
جو آج بھی بے گھری کا دکھ
خوف ناک لہروں کی
ہولناک یادوں کے ساتھ
جَھیل رہے ہیں
اسی زمین پر
تمام آسائشوں کےساتھ
صبح سے شام کرنے والے طاقت ور لوگ
تاریخ کے تسلسل میں
آج بھی عبرت پکڑنے سے
معذور نظر آتے ہیں
اور وقت کی بے نیاز آنکھ
مٹی اور پانی میں رُلتے مناظر
ابدی یادداشت میں
تسلسل کے ساتھ محفوظ کررہی ہے

A free verse poem on marking 9 years of an undersea megathrust earthquake in Indian Ocean on 26 December 2004

Tsunami

Nao baras hogaye hain  Read the rest of this entry

%d bloggers like this: