Monthly Archives: March 2014

وجودِ شوق میں اقلیم غم اسی لیے ہے


غزل

ترے دمن میں تو  یارائے آب جو ہی نہیں
سمندروں میں سمٹنے کی آرزو ہی نہیں

وجودِ شوق میں اقلیم غم اسی لیے ہے
نہ جانے کتنے ہی عالم ہیں، ایک تو ہی نہیں

یہ رات جن سے مری، شعلہ سا بنی ہوئی ہے
یہ آنسوؤں کے بھی یاقوت ہیں، لہو ہی نہیں

تلاش کس کی ہے بے چین ہیں جو سناٹے
رگوں میں تیرتے رہتے ہیں کوبہ کو ہی نہیں

میں آج بے سروساماں پڑا ہوں در پہ ترے
کلیجہ چیر کے رکھ دے، وہ ہاؤ ہو ہی نہیں

جو مجھ کو چاہے گا، آئے گا خود ہی کٹیا میں
کسی کا ہاتھ پکڑنے کی مجھ میں خو ہی نہیں

Ghazal

Teray daman main tu yaraay-e-aab-joo hi nahi
SamundaroN main simatne ki aarzoo hi nahi

 

Wujood-e-shoq main Iqleem-e-gham isi liye hey
Na jaane kitne hi aalam hain, ak tuu hi nahi

Ye raat jin say meri, shula saa bani hoi hey
Ye aansuooN k bhi yaaqoot hain, luhoo hi nahi

Talash kis ki hay baichain hain jo sannatay

Ragon main tairte rehte hain koobakoo hi nahi

Main aaj bay-sar-o-saamaaN paRa hoN dar pe terey
Kaleeja cheer k rakh day, wo haao-hoo hi nahi

Jo mujh ko chahega, aayega khud hi Kutyaa main
Kisi ka haath pakaRne ki mujh main khuu hi nahi

Awaiting knock!


Awaiting knock!

****

In all seasons,
Whatever situation you have encountered,
To vanish reasons,
They are waiting for your knock –
The doors of thinking!

Rafiullah Mian

بانجھ آنکھیں


A long free verse poem published in literary magazine quarterly Ijra – October to December 2013

 

بانجھ آنکھیں

جب بے نور آنکھوں کی پتلیاں
روشن ہونے لگتی ہیں
تو اندھی لڑکی پر
لرزہ خیز وارداتوں کے لیے مشہور
مانوس گلی میں لرزتے، پھیلتے
اَن دیکھے سایوں کا رمز کھلتا ہے
٭٭
قاتل مطمئن ہے
کہ اس نے گڈمڈ سایوں کے بیچ
سرخ ہوتا سایہ نہیں دیکھا ہے
لیکن اندھی لڑکی
ساری گواہیاں مردہ اعصاب کے ذریعے
دماغ کے اس خانے میں منتقل کرچکی ہے
جو لاچاری کے فلسفے سے مملو
ان گنت کتابوں پر مشتمل
لائبریری کا کام کرتا ہے
٭٭

اس نے ایک بار چمکتی سیاہی سے لکھا
جب تک نہر سے سپلائی جاری نہ ہو
واش بیسن کے اوپر اوندھا لٹکا
سنہری نل لاچاری کی تصویر بنا رہے گا
تم لوگوں نے انسانوں کے اذہان کو بھی
اچھی باتوں کی سپلائی بند کر رکھی ہے
اور معاشرہ لاچاری کی تصویر بن چکا ہے
معذوری کے بارے اس نے لکھا
اگر میری بصارت کی طرح
ہاتھ پیر اور دوسرے اعضا
چھین لیے جائیں
تب بھی چاندی کی قلعی میں لپٹا
معذوری کا تمغہ سینے پر سجانے نہیں دوں گی
تم لوگ اپنی اپنی ڈکشنریوں میں موجود
ہزاروں گم راہ کن معانی درست کرکے
لاکھوں انسانوں کو معذور ہونے سے بچاسکتے ہو
وہ لکھتی ہے
معذور تو وہ ہے
جو اچھی بات سوچنے سے قاصر ہے

٭٭

اس کی تیز سماعت
لفظ فلسفے سے اوّل اوّل آشنا ہوئی
تو اسے بہت اچھا لگا
ممکن ہے اس سمے
صوتی جمالیات کا کوئی غیر مرئی طائفہ
—اس مقام سے گزرا ہو

اور اسے محسوس ہوا ہو
کہ بالذات کسی جمالیاتی عنصر سے خالی
یہ لفظ اُسے اسی طرح پکار رہا ہے
جس طرح
اس کے سفید و سیاہ خوابوں میں
عجیب و غریب چیزیں
جنہیں بیان کرنے کے لیےاُسے
لغت اپنا کوئی لفظ مستعار دینے پرتیار نہیں ہوتی
اس نے رنگوں کے بارے سنا ضرور ہے
مگر وہ
اَن دیکھی اور اَن چھوئی چیز
اور اس کے دماغ میں موجود اجنبی تصور کے مابین
— کوئی ربط کس طرح پیدا کرے

چناں چہ اس سے قبل کے شورِ جرس
اسے کسی غیر مرئی بھنور
میں الجھادیتی
کسی کنواری اونٹنی کے گلے میں بندھی
گھنٹی کی آواز نے
اس کی سماعت کا نظام اچک کر
صحراؤں کی بین کرتی خاک کےنالوں سے
مانوس کردیا

وہ اپنی کنواری ڈکشنری کے لیے
بصری صحرائی الفاظ کا ایک ذخیرہ پاکر
بہت خوش ہوئی

اس نے کبھی کچھ نہیں دیکھا
لیکن اس کے ‘بصارت گھر’ کی پچھلی گلی سے
گزرنے والے مردہ راستے
نہ جانے کیسے اور کہاں سے
بہت ساری تصاویر
کسی سیٹلائٹ کی طرح کھینچ کر
پوری تفصیل کے ساتھ
لائبریری کا حصہ بنادیتے ہیں
٭٭
اندھی لڑکی اور”
قوت بصارت میں کوئی نسبت نہیں
جیسے صحرا میں اُگنے والی کھجور
اور اس کے گھر کے آنگن کے لیمو میں
”کوئی نسبت تخلیق نہیں کی جاسکتی
اس حقیقت کاادراک

صرف اندھی لڑکی تک محدود ہے
کہ اس کے موجود نادیدہ وجود کی کائنات میں
ہر دو کُرّوں کے درمیان
تخلیقی جوہر تیرتا رہتا ہے
کرب کے لمحات میں وہ اس جوہر سے
کُرّے تخلیق کرتی رہتی ہے
اندھی لڑکی کو محسوس ہوتا ہے
کہ اس کی گردن میں کنواری گھنٹی بندھی ہے
جس کی آواز اسے مقدس زمینوں
کی سیر کراکر لاتی ہے
اور وہ ہر بار اپنے اندر ایک نئے وجود
کی سرسراہٹ پاتی ہے
اس کی ریتیلی آنکھوں میں
اگرچہ ہر قوت کی لہر دم توڑ چکی ہے
لیکن دور دور تک پھیلی
سنگ لاخ اور سرخ زمینوں سے گزرتے ہوئے
اس نے وہ کچھ دیکھ رکھا ہے
جسے وہ کتاب کرلے تو
اپنے لکھے ہوئے کو
— خود اساطیری داستانیں کہہ کر مسکرادے

تذبذب میں پڑا ہوا آئینہ
اس کی مسکان اور
لیمو چاٹنے کے بعد میچی ہوئی آنکھوں میں
— زیادہ بڑی جان لیوا کا فیصلہ نہیں کرپاتا

لیمو کی کھٹاس
مرمر کی سلوں پر
ہمیشہ ادھورے سپنوں کے نقوش ڈالتی ہے
جب وہ انہیں مکمل کرنے کے لیے
مانوس گلیوں میں نکلتی ہے
تو اس کی مسکراہٹ
آئینے کی بے خبری پر روتی ہے
٭٭

Read the rest of this entry

سفید و سیاہ


سفید و سیاہ

***

تم خود کو جدیدتر کہتے ہو
مجھے تمھاری ہر ادا میں
ماضی کی کالی سفید دھاریاں نظر آتی ہیں
تم نظارے میں اس طرح محو ہو
کہ عقل کے روشن دروازے کھول نہیں پائے
میں نے جو دیکھا
اسے ایک التباس سمجھا
میرا قد اتنا چھوٹا ہے کہ
مجھ تک شبیہات پہنچنے میں
صدیاں گزرجاتی ہیں
ہر نیا آنے والا سایہ
میری چشم حیرت پر خنداں ہے

Sufaid-o-Siyaah

Tum khud ko jadeed-tar kehtay ho
Mujhey tumhari har ada main
Maazi ki kaali-sufaid dhaariyaaN nazar aati hain
Tum nazaaray main is tarah mehw ho
K aql k roshan darwazay khol nahi paatay
Main nay jo daikha
Osay ak iltibaas samjha
Mera qad itna chota hay k
Mujh tak shabeehaat pohnchnay main
SadiyaaN guzar jaati hain
Har naya anay wala saya
Meri chashm-e-hairat par KhandaaN hay

UcryN


Crisis in Ukraine goes worse!

Crisis in Ukraine goes worse!

%d bloggers like this: