Monthly Archives: April 2014

زمیں کی کشکول میں دعا ہے


غزل

بلند کتنی تری عطا ہے
حقیر کتنی مری وفا ہے

میں جان قربان تجھ پہ کردوں
خیال کتنا یہ جاں فزا ہے

یہ تیری میری محبتوں کا
خمار کتنا خرد کشا ہے

حدِ نشاطِ وصال کیا ہو
ذرا سی دوری بڑی سزا ہے

جنوں ہے جھوٹ اور جنوں بغاوت
یہ میرے جاناں کا فیصلہ ہے

مری شب ماہ تاب کی خیر
تمھارا سورج تو ڈھل چکا ہے

جو کھل رہے ہیں در آسماں میں
زمیں کی کشکول میں دعا ہے

یہ فرق ہے کہ گلی وہی ہے
ضمیر اپنا بھٹک رہا ہے

مجھے محبت تلاشنے دو
مریض دل کی یہی دوا ہے

Ghazal

Buland kitni tri ata hay
Haqeer kitni mri wafa hay

Main jaan qurbaan tujh pe kardooN
Khayal kitna ye jaaN-faza hay

Ye tairi mairi muhabbatoN ka
Khumaar kitna khirad-kusha hay

Had-e-nishat-e-wisaal kia ho
Zara si doori baRi saza hay

JunooN hay jhoot aor junoo baghawat
Ye meray jaanaN ka faisla hay

Mri shab-e-maahtaab ki khair
Tumhara sooraj tu dhal chuka hay

Jo khul rahay hain dar aasmaaN main
ZameeN ki kashkol main dua hay

Ye farq hay k gali wahi hay
Zameer apna bhatak raha hay

Mujhe muhabbat talashnay do
Mareez-e-dil ki yahi dawa hay

Rapt — the creator


Rapt  — the creator

The moments of love
with the confusion wrapping their feet
as if a serpent
Creator wants to move it to the land of certainty
to make its marks


can a staggering prospect be born
with the seed of weak will
or is it so that the creator by sitting for long
in front of the canvas, thinks
of a new abstract experiment


in the net of the tunnels spread in his eyes
he is undulating the moving blood
with the warmth of waiting
when he is done with the illustration
on the canvas with water colors,
he will pluck the confession
which has eyelashes like a comet
from the eyes of beloved
and awake the smile sleeping for long
on the lips,
resembling sand waves of a desert


Why the creator can’t be partial,
who embodies his imagination and entrancement
and spreading the reflections here and there
And ……
the creator sits long, indifferently
in front of canvas
maintaining his oneness
and reflects the story
with a new angle!

Rafiullah Mian

تخلیق کار مگن ہے


تخلیق کار مگن ہے

محبت کے وہ لمحے
جن کے قدموں سے تذبذب سانپ کی طرح لپٹا ہے،
تخلیق کار چاہتا ہے کہ
تیقن کی سرزمین پراپنے نقوش بنائیں،
کیا کمزور اِرادوں کے پیچھے
کسی ہوش رُبا امکان کا جنم ہوسکتا ہے!
یا محض تخلیق کار کو اپنے کینوس کے سامنے
دیر سے بیٹھے بیٹھے کسی نئے
تجریدی تجربے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے!
وہ اپنی آنکھوں میں بچھی ہوئی
سرنگوں کے جال میں سرکتے
لہو کے تموّج کوانتظار کی گرمی سے
اُچھال رہا ہے،
جب کینوس پر واٹر کلر سے اسے مزیّن کرے گا
تو محبوب کی آنکھوں سے
دُمدار سیاروں جیسی پلکوں والا
اعتراف کتر لے گا،
اور صحرا کی ریت جیسی
لہروں والے ہونٹوں پر
مسکان کی دیر سے سوئی گھنٹی کو جگادے گا‘
تخلیق کار کیوں جانب دار نہیں رہ سکتا!
اپنے تخیّل اور تحیّر کو مجسم کرکے
جا بہ جا عکس در عکس کیوں پھیلاتا ہے!

……..اور
تخلیق کار بے نیازی سے
کینوس کے سامنے دیر سے بیٹھا
اپنی یکتائی برقرار رکھ کر
کہانی کو کسی نئے زاویے سے
معکوس کرنے میں مگن ہے!

انساں گزیدہ شہر کے خوابوں کی باس میں


غزل

انجان ریت میں مرے ہاتھوں سے پل گیا
بس ڈوبنے کو تھا کہ اچانک سنبھل گیا

اک تجربہ تھا، اس میں اگانے کنول گیا
آیا ہوا نہ پھر کبھی قسمت کا بَل گیا

نظروں نے کھایا بل وہ، کہ پھر ہٹ نہیں سکیں
خمیازہ تھا ترا، مری آنکھیں بدل گیا

برسوں مرا زمیں سے عقیدہ جڑا رہا
کج رو کی اک ادا سے جڑوں سے اچھل گیا

ہم لوگ اپنے خول میں سمٹے ہیں اس قدر
لمحوں کا سایہ دھوپ میں جلنے نکل گیا

اک شوق خود نمائی نے اکسا دیا اُسے
فن پارہ تھا مرا، مرے فن کو کچل گیا

میری ریاضتوں نے وفا کو جِلا تو دی
اُس بے وفا کے سامنے سارا عمل گیا

اے رقص جاں تجھے تو خبر ہے وجود کی
کیسا خلا تھا میرا ہنر جو نگل گیا

تپتی زمیں پہ پیاس سے آنکھیں ابل پڑیں
ظالم کو کتنا رنج تھا، ان کو مسل گیا

پہچان کی ہوس نے کیا اتنا نامراد
جبل مراد پر کوئی رکھ کر غزل گیا

انساں گزیدہ شہر کے خوابوں کی باس میں
اس طور بے کلی تھی، مرا جی مچل گیا

Ghazal

Read the rest of this entry

%d bloggers like this: