Category Archives: Ghair Urozii Nazm

لباس


♣ لباس ♣

ایک سہانی صبح
سرہانے مرجھایا پھول دیکھا
ملال گھیرتے وقت
ہوا نے بتایا
یہ کل رات تک کِھلا تھا
صرف ایک رات کے سفر سے ہار گیا
میرا دل اس خیال سے دھڑکا
راتوں کا سفر بہت ہلاکت خیز ہوتا ہے
پھول بدن کو اٹھاکر
باغیچے کی کیاری کی مٹی پر
کسی کتبے کی طرح رکھا
پلٹتے سمے
ایک پھول نے مسکراکرکہا
ملول مت ہو
میری مسکراہٹ مستعار لے لو
تازہ دم ہوکر
امید کا نیا لباس پہن لو

 

Libas

Ak suhani subh
Sarhanay murjhaya phool dekha
Malaal ghairtay waqt
Hawa nay bataya
Ye kal raat tak khila tha
Sirf ak raat k safar say haar gaya
Mera dil is khayal say dhaRka
Raton ka safar bohot halakat khaiz hota hay
Phool badan ko utha kar
Bagheechay ki kiyari ki mitti par
Kisi kutbay ki tarah rakha
Palat’tay samay
Aik phool nay muskura kar kaha
Malool mat ho
Meri muskurahat musta’ar lelo
Taza dam hokar
Umeed ka naya libas pehen lo

تخلیق کار مگن ہے


تخلیق کار مگن ہے

محبت کے وہ لمحے
جن کے قدموں سے تذبذب سانپ کی طرح لپٹا ہے،
تخلیق کار چاہتا ہے کہ
تیقن کی سرزمین پراپنے نقوش بنائیں،
کیا کمزور اِرادوں کے پیچھے
کسی ہوش رُبا امکان کا جنم ہوسکتا ہے!
یا محض تخلیق کار کو اپنے کینوس کے سامنے
دیر سے بیٹھے بیٹھے کسی نئے
تجریدی تجربے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے!
وہ اپنی آنکھوں میں بچھی ہوئی
سرنگوں کے جال میں سرکتے
لہو کے تموّج کوانتظار کی گرمی سے
اُچھال رہا ہے،
جب کینوس پر واٹر کلر سے اسے مزیّن کرے گا
تو محبوب کی آنکھوں سے
دُمدار سیاروں جیسی پلکوں والا
اعتراف کتر لے گا،
اور صحرا کی ریت جیسی
لہروں والے ہونٹوں پر
مسکان کی دیر سے سوئی گھنٹی کو جگادے گا‘
تخلیق کار کیوں جانب دار نہیں رہ سکتا!
اپنے تخیّل اور تحیّر کو مجسم کرکے
جا بہ جا عکس در عکس کیوں پھیلاتا ہے!

……..اور
تخلیق کار بے نیازی سے
کینوس کے سامنے دیر سے بیٹھا
اپنی یکتائی برقرار رکھ کر
کہانی کو کسی نئے زاویے سے
معکوس کرنے میں مگن ہے!

بانجھ آنکھیں


A long free verse poem published in literary magazine quarterly Ijra – October to December 2013

 

بانجھ آنکھیں

جب بے نور آنکھوں کی پتلیاں
روشن ہونے لگتی ہیں
تو اندھی لڑکی پر
لرزہ خیز وارداتوں کے لیے مشہور
مانوس گلی میں لرزتے، پھیلتے
اَن دیکھے سایوں کا رمز کھلتا ہے
٭٭
قاتل مطمئن ہے
کہ اس نے گڈمڈ سایوں کے بیچ
سرخ ہوتا سایہ نہیں دیکھا ہے
لیکن اندھی لڑکی
ساری گواہیاں مردہ اعصاب کے ذریعے
دماغ کے اس خانے میں منتقل کرچکی ہے
جو لاچاری کے فلسفے سے مملو
ان گنت کتابوں پر مشتمل
لائبریری کا کام کرتا ہے
٭٭

اس نے ایک بار چمکتی سیاہی سے لکھا
جب تک نہر سے سپلائی جاری نہ ہو
واش بیسن کے اوپر اوندھا لٹکا
سنہری نل لاچاری کی تصویر بنا رہے گا
تم لوگوں نے انسانوں کے اذہان کو بھی
اچھی باتوں کی سپلائی بند کر رکھی ہے
اور معاشرہ لاچاری کی تصویر بن چکا ہے
معذوری کے بارے اس نے لکھا
اگر میری بصارت کی طرح
ہاتھ پیر اور دوسرے اعضا
چھین لیے جائیں
تب بھی چاندی کی قلعی میں لپٹا
معذوری کا تمغہ سینے پر سجانے نہیں دوں گی
تم لوگ اپنی اپنی ڈکشنریوں میں موجود
ہزاروں گم راہ کن معانی درست کرکے
لاکھوں انسانوں کو معذور ہونے سے بچاسکتے ہو
وہ لکھتی ہے
معذور تو وہ ہے
جو اچھی بات سوچنے سے قاصر ہے

٭٭

اس کی تیز سماعت
لفظ فلسفے سے اوّل اوّل آشنا ہوئی
تو اسے بہت اچھا لگا
ممکن ہے اس سمے
صوتی جمالیات کا کوئی غیر مرئی طائفہ
—اس مقام سے گزرا ہو

اور اسے محسوس ہوا ہو
کہ بالذات کسی جمالیاتی عنصر سے خالی
یہ لفظ اُسے اسی طرح پکار رہا ہے
جس طرح
اس کے سفید و سیاہ خوابوں میں
عجیب و غریب چیزیں
جنہیں بیان کرنے کے لیےاُسے
لغت اپنا کوئی لفظ مستعار دینے پرتیار نہیں ہوتی
اس نے رنگوں کے بارے سنا ضرور ہے
مگر وہ
اَن دیکھی اور اَن چھوئی چیز
اور اس کے دماغ میں موجود اجنبی تصور کے مابین
— کوئی ربط کس طرح پیدا کرے

چناں چہ اس سے قبل کے شورِ جرس
اسے کسی غیر مرئی بھنور
میں الجھادیتی
کسی کنواری اونٹنی کے گلے میں بندھی
گھنٹی کی آواز نے
اس کی سماعت کا نظام اچک کر
صحراؤں کی بین کرتی خاک کےنالوں سے
مانوس کردیا

وہ اپنی کنواری ڈکشنری کے لیے
بصری صحرائی الفاظ کا ایک ذخیرہ پاکر
بہت خوش ہوئی

اس نے کبھی کچھ نہیں دیکھا
لیکن اس کے ‘بصارت گھر’ کی پچھلی گلی سے
گزرنے والے مردہ راستے
نہ جانے کیسے اور کہاں سے
بہت ساری تصاویر
کسی سیٹلائٹ کی طرح کھینچ کر
پوری تفصیل کے ساتھ
لائبریری کا حصہ بنادیتے ہیں
٭٭
اندھی لڑکی اور”
قوت بصارت میں کوئی نسبت نہیں
جیسے صحرا میں اُگنے والی کھجور
اور اس کے گھر کے آنگن کے لیمو میں
”کوئی نسبت تخلیق نہیں کی جاسکتی
اس حقیقت کاادراک

صرف اندھی لڑکی تک محدود ہے
کہ اس کے موجود نادیدہ وجود کی کائنات میں
ہر دو کُرّوں کے درمیان
تخلیقی جوہر تیرتا رہتا ہے
کرب کے لمحات میں وہ اس جوہر سے
کُرّے تخلیق کرتی رہتی ہے
اندھی لڑکی کو محسوس ہوتا ہے
کہ اس کی گردن میں کنواری گھنٹی بندھی ہے
جس کی آواز اسے مقدس زمینوں
کی سیر کراکر لاتی ہے
اور وہ ہر بار اپنے اندر ایک نئے وجود
کی سرسراہٹ پاتی ہے
اس کی ریتیلی آنکھوں میں
اگرچہ ہر قوت کی لہر دم توڑ چکی ہے
لیکن دور دور تک پھیلی
سنگ لاخ اور سرخ زمینوں سے گزرتے ہوئے
اس نے وہ کچھ دیکھ رکھا ہے
جسے وہ کتاب کرلے تو
اپنے لکھے ہوئے کو
— خود اساطیری داستانیں کہہ کر مسکرادے

تذبذب میں پڑا ہوا آئینہ
اس کی مسکان اور
لیمو چاٹنے کے بعد میچی ہوئی آنکھوں میں
— زیادہ بڑی جان لیوا کا فیصلہ نہیں کرپاتا

لیمو کی کھٹاس
مرمر کی سلوں پر
ہمیشہ ادھورے سپنوں کے نقوش ڈالتی ہے
جب وہ انہیں مکمل کرنے کے لیے
مانوس گلیوں میں نکلتی ہے
تو اس کی مسکراہٹ
آئینے کی بے خبری پر روتی ہے
٭٭

Read the rest of this entry

سفید و سیاہ


سفید و سیاہ

***

تم خود کو جدیدتر کہتے ہو
مجھے تمھاری ہر ادا میں
ماضی کی کالی سفید دھاریاں نظر آتی ہیں
تم نظارے میں اس طرح محو ہو
کہ عقل کے روشن دروازے کھول نہیں پائے
میں نے جو دیکھا
اسے ایک التباس سمجھا
میرا قد اتنا چھوٹا ہے کہ
مجھ تک شبیہات پہنچنے میں
صدیاں گزرجاتی ہیں
ہر نیا آنے والا سایہ
میری چشم حیرت پر خنداں ہے

Sufaid-o-Siyaah

Tum khud ko jadeed-tar kehtay ho
Mujhey tumhari har ada main
Maazi ki kaali-sufaid dhaariyaaN nazar aati hain
Tum nazaaray main is tarah mehw ho
K aql k roshan darwazay khol nahi paatay
Main nay jo daikha
Osay ak iltibaas samjha
Mera qad itna chota hay k
Mujh tak shabeehaat pohnchnay main
SadiyaaN guzar jaati hain
Har naya anay wala saya
Meri chashm-e-hairat par KhandaaN hay

برق گرنے پر


برق گرنے پر

ــ گزشتہ روز ملاوی کے دارالحکومت کے ایک ایڈونٹسٹ چرچ پر دوران عبادت آسمانی بجلی گرنے پرــ

سنیچر کے دن
جب ملاوی میں توسیعی سیشن جاری تھا
تب اُس چھت سے
‘جہاں ایک دن ہم سب کی
دکھ سے بھرے سینے میں
سانس بھرتی
‘بہت محبوب ہستی کو اٹھا لیا گیا تھا
ایک شعلہ لپکا
اورچند عبادت گزار روحوں کو
اٹھا کر لے گیا
روحوں نے دیکھا کہ
بھگدڑ میں
ان کے اجسام روندے جارہے ہیں
اور آسمان پر
شعلوں کی زبانیں کانپ رہی ہیں
زمین پر دہشت کی بارش سے
ظہور ثانی کے معتقدین
اپنی تھیولوجی بغل میں دبائے
محبوب ہستی کو مصلوب چھوڑ کر
بھاگتے جارہے ہیں
سچ کا لباس اوڑھ کر
مصلوب ہونے کا ہنر
عبادت گاہ کے فرش پر راکھ کی صورت پڑا ہے
اور میخوں پر ہتھوڑوں کی لگنے والی
ضربوں کی آوازیں
بھاگنے والوں کا
پیچھا کررہی ہیں

Barq girnay par

__ A free verse poem on lightning-bolt on an Adventist Church during a session on Saturday __

Sanature k din
Jab malawi main toseeii sasion jari tha
Tab os chat say Read the rest of this entry

آبرو کا نوحہ


آبرو کا نوحہ

ــ 30 دسمبر 2006 کو پھانسی پر چڑھنے والے صدام حسین کی ساتویں برسی پر ــ

ہوائیں
بلندیوں کو محبوب رکھنے والے
شاہینوں کو
اپنے دوش پر
اُن سربہ فلک رازوں تک پہنچانے کا
فریضہ انجام دیتی ہیں
جو زمیں زادوں کے لیے چیلنج ہیں
اگر وہ چٹانوں کو
اُلٹ دینے والے پُرقوت پروں کو
جھاڑ کر
خود کو ہوس سے محروم کرنا سیکھیں
اور سیاہ چادر تلے
دشمن پر کپکپی طاری کردینے والی
نگاہوں کو
چند آنسوؤں سے دھولیا کریں
♣♣
عیبوں کی نمایش کرتے کرتے
ہم نے اپنے وجود میں خوف کو جنم دیا ہے
اس لیے دشمن ہم پر مسلط ہے
مفتوح قومیں
ہوس کا خوش نما لباس پہن کر
اڑان کی گرمی سے محروم ہوجاتی ہیں
♣♣
اے شاہین
تو آبرو کے فلسفے کو نہ سمجھ سکا
تیری نگاہ شعلہ ساز نے
اپنے ہی خرمن کو چُنا
تیرے بازوئے ہمت نے
اپنے ہی لوگوں کی ہمت پست کردی
آبرو کا پرندہ
تیرے کندھے سے اڑتے وقت
رویا ضرور ہوگا
کہا ضرور ہوگا
میں تجھے ہم دوش ثریا کرسکتا تھا
لیکن تم نے عیبوں کے سائے میں
خوف کو جنم دے کر
خلعتِ ہوس زیب تن کرلیا
آخری لمحات میں
جب زمین سے تیرا رشتہ ٹوٹنے والا تھا
تو نے مجھے یاد کیا
لیکن تیرے دوش سے
میری نسبت ٹوٹ چکی تھی

Aabroo ka Noha

A free verse poem on 7th death anniversary of Saddam Hussein (December 30, 2006)

HawaayeN
Bulandion ko mahboob rakhnay walay
ShaaheenoN ko Read the rest of this entry

سونامی


دسمبر 26 2004 کو بحر ہند میں آنے والے سونامی کے نو برس مکمل ہونے پر

سونامی

نو برس ہوگئے ہیں
اے ہمارے پیارے سمندر
تجھ سے کوئی گلہ نہیں
لیکن تو جس طرح ہمیں پیارا ہے
یہ زمین بھی اسی طرح پیاری ہے
اور کوئی شک نہیں
اس زمین پر رہنے والے
سب سے زیادہ پیارے ہیں
جو آج بھی بے گھری کا دکھ
خوف ناک لہروں کی
ہولناک یادوں کے ساتھ
جَھیل رہے ہیں
اسی زمین پر
تمام آسائشوں کےساتھ
صبح سے شام کرنے والے طاقت ور لوگ
تاریخ کے تسلسل میں
آج بھی عبرت پکڑنے سے
معذور نظر آتے ہیں
اور وقت کی بے نیاز آنکھ
مٹی اور پانی میں رُلتے مناظر
ابدی یادداشت میں
تسلسل کے ساتھ محفوظ کررہی ہے

A free verse poem on marking 9 years of an undersea megathrust earthquake in Indian Ocean on 26 December 2004

Tsunami

Nao baras hogaye hain  Read the rest of this entry

ان گنت حوالوں کی اداسی


اَن گنت حوالوں کی اداسی

سَت رنگی آنکھوں میں پِنہاں شوخی
آفاقی حوالوں کے ساتھ
زندگی کے رَمز کا رَس ٹپکاتی ہے
!آفاقیت کیا ہے
تیری آنکھوں کی شکتی
جو دو کناروں کو جوڑے رکھتی ہے
مونا لیزا کیا جانے
جدید دور کا انسان
آنکھوں سے بہنے والی مسکراہٹ
اُس کے چہرے کے نقوش میں تلاش کرتا ہے
اور کایناتی حوالوں سے
!اُسے سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہے
تیری آنکھوں کی دِل کش پتلیاں
فطرت کے جتنے حوالے سمیٹ کر
اپنے گردوپیش پر سحر پھونک سکتی ہیں
وہ سب میری شاعری میں مل جائیں گے
لیکن اس حقیقت کا بطلان ممکن نہیں
کہ
میری شاعری اورتیری آنکھوں کے رنگ
کبھی مدغم نہیں ہوسکیں گے
٭٭٭

An-ginat HawaaloN ki Udasi

Sat-rangi aankhoN main pinhaaN shokhi
Aafaaqi hawaaloN k sath
Zindagi k ramz ka rass tapkaati hay
Aafaaqiyat kia hay
Teri aankhoN ki shaktii
Jo do kinaaroN ko joRay rakhti hay
Mona Lisa kia jaanay
Jadeed daor ka insaan
AankhoN say behnay wali muskuraahat
Os ke chehray k naqoosh main talash karta hay
Aor kaayinaati hawaaloN say
Osay samajhnay ki koshish main masroof hay
Tairii aankhoN ki dilkash putliaaN
Fitrat k jitnay hawaalay samait kar
Apnay gard-o-paish par sehr phoonk sakti hain
Wo sab meri shayirii main mill jaayingay
Lekin is haqeeqat ka batlaan mumkin nahi
K
Meri shayirii aor teri aankhoN k rang
Kabhi madgham nahi hosakaingay

ہمارے درمیاں


Picture it and write

ہمارے درمیاں

تم

تنگ و تاریک اور شکستہ گلی سے
روز گزر تے ہو
اور سورج تلے جلتی
اُسی پرانی بستی میں جانکلتے ہو
تمھاری زندگی
اسی انتہائی تجربے پر موقوف ہے
اور میں اس امید پر جیتا ہوں
کہ ایک دن تم
اپنے وجود کے اندر دور تک بچھی
کالی پگڈنڈی کو
کسی روشن خیال سے اُجال دوگے

Hamaray darmiyaN

Tum
Tang-o-taareek aor shikasta gali say
Roz guzartay ho
Aor sooraj talay jalti
Osi purani bastii main jaa nikaltay ho
Tumhari zindagi
Isi intihayi tajarbay par moqoof hay
Aor main is umeed par jeeta hoN
K aek din tum
Apnay wajood k andar door tak bichii
Kaali pagdandii ko
Kisi roshan Khayal say ujaal dogay!

!اے محبوب


!اے محبوب

تمھارے خیالات
محبت اور کرم نوازی کی
زندگی سے بھرپور توانائی
جو تم اپنے ساتھ لاتے ہو
ہمیشہ نعمت کی طرح محسوس ہوتی ہے

**

مجھے تم سے محبت ہے
لیکن زندگی حجابوں میں لپٹی ہے
انہیں پلٹتے پلٹتے
زندگی گزرجائے گی
اور ہمارے قلوب
جو جذبوں کی حرارت سے دھڑکتے ہیں
اور ہزاروں میل دوری سے بھی
ایک دوسرے سے مربوط رہتے ہیں
پگھل کر خاک نشیں ہوجائیں گے
اور ان میں دھڑکتے جذبے
مٹی کو نم کرکے
نمود کی کسی نئی تشریح کو جنم دیں گے

**

!اے میرے محبوب
کیا ہم واقعی محبت کرتے ہیں
یا محبت زدہ دل لے کر
خاک بسر
خود کو، یہ سمجھ کر دھوکا دیتے ہیں
کہ ہمارے تشنہ ہونٹ امرت سے آشنا ہوچکے ہیں
لیکن ہمارے جسم کیوں پگھل رہے ہیں
اب تب میں یہ رزق خاک ہونے کو ہیں
تھمارے ہونٹوں پر پپڑیاں جم چکی ہیں
کیا تم میرا عکس ہو
ہمارے بدن پانی بن کر پگھل رہے ہیں
اور تشنگی کا یہ عالم ہے کہ
زندگی کے صحرا میں
ریت کے ہر دوسرے ذرے میں
ایک سمندر ٹھاٹیں مارتا دکھائی دے رہا ہے
کیا ہم سرابوں سے نجات پانے کے لیے
اپنی اپنی زندگی دان کرسکتے ہیں

click to continue reading

%d bloggers like this: