Blog Archives

بانجھ آنکھیں


A long free verse poem published in literary magazine quarterly Ijra – October to December 2013

 

بانجھ آنکھیں

جب بے نور آنکھوں کی پتلیاں
روشن ہونے لگتی ہیں
تو اندھی لڑکی پر
لرزہ خیز وارداتوں کے لیے مشہور
مانوس گلی میں لرزتے، پھیلتے
اَن دیکھے سایوں کا رمز کھلتا ہے
٭٭
قاتل مطمئن ہے
کہ اس نے گڈمڈ سایوں کے بیچ
سرخ ہوتا سایہ نہیں دیکھا ہے
لیکن اندھی لڑکی
ساری گواہیاں مردہ اعصاب کے ذریعے
دماغ کے اس خانے میں منتقل کرچکی ہے
جو لاچاری کے فلسفے سے مملو
ان گنت کتابوں پر مشتمل
لائبریری کا کام کرتا ہے
٭٭

اس نے ایک بار چمکتی سیاہی سے لکھا
جب تک نہر سے سپلائی جاری نہ ہو
واش بیسن کے اوپر اوندھا لٹکا
سنہری نل لاچاری کی تصویر بنا رہے گا
تم لوگوں نے انسانوں کے اذہان کو بھی
اچھی باتوں کی سپلائی بند کر رکھی ہے
اور معاشرہ لاچاری کی تصویر بن چکا ہے
معذوری کے بارے اس نے لکھا
اگر میری بصارت کی طرح
ہاتھ پیر اور دوسرے اعضا
چھین لیے جائیں
تب بھی چاندی کی قلعی میں لپٹا
معذوری کا تمغہ سینے پر سجانے نہیں دوں گی
تم لوگ اپنی اپنی ڈکشنریوں میں موجود
ہزاروں گم راہ کن معانی درست کرکے
لاکھوں انسانوں کو معذور ہونے سے بچاسکتے ہو
وہ لکھتی ہے
معذور تو وہ ہے
جو اچھی بات سوچنے سے قاصر ہے

٭٭

اس کی تیز سماعت
لفظ فلسفے سے اوّل اوّل آشنا ہوئی
تو اسے بہت اچھا لگا
ممکن ہے اس سمے
صوتی جمالیات کا کوئی غیر مرئی طائفہ
—اس مقام سے گزرا ہو

اور اسے محسوس ہوا ہو
کہ بالذات کسی جمالیاتی عنصر سے خالی
یہ لفظ اُسے اسی طرح پکار رہا ہے
جس طرح
اس کے سفید و سیاہ خوابوں میں
عجیب و غریب چیزیں
جنہیں بیان کرنے کے لیےاُسے
لغت اپنا کوئی لفظ مستعار دینے پرتیار نہیں ہوتی
اس نے رنگوں کے بارے سنا ضرور ہے
مگر وہ
اَن دیکھی اور اَن چھوئی چیز
اور اس کے دماغ میں موجود اجنبی تصور کے مابین
— کوئی ربط کس طرح پیدا کرے

چناں چہ اس سے قبل کے شورِ جرس
اسے کسی غیر مرئی بھنور
میں الجھادیتی
کسی کنواری اونٹنی کے گلے میں بندھی
گھنٹی کی آواز نے
اس کی سماعت کا نظام اچک کر
صحراؤں کی بین کرتی خاک کےنالوں سے
مانوس کردیا

وہ اپنی کنواری ڈکشنری کے لیے
بصری صحرائی الفاظ کا ایک ذخیرہ پاکر
بہت خوش ہوئی

اس نے کبھی کچھ نہیں دیکھا
لیکن اس کے ‘بصارت گھر’ کی پچھلی گلی سے
گزرنے والے مردہ راستے
نہ جانے کیسے اور کہاں سے
بہت ساری تصاویر
کسی سیٹلائٹ کی طرح کھینچ کر
پوری تفصیل کے ساتھ
لائبریری کا حصہ بنادیتے ہیں
٭٭
اندھی لڑکی اور”
قوت بصارت میں کوئی نسبت نہیں
جیسے صحرا میں اُگنے والی کھجور
اور اس کے گھر کے آنگن کے لیمو میں
”کوئی نسبت تخلیق نہیں کی جاسکتی
اس حقیقت کاادراک

صرف اندھی لڑکی تک محدود ہے
کہ اس کے موجود نادیدہ وجود کی کائنات میں
ہر دو کُرّوں کے درمیان
تخلیقی جوہر تیرتا رہتا ہے
کرب کے لمحات میں وہ اس جوہر سے
کُرّے تخلیق کرتی رہتی ہے
اندھی لڑکی کو محسوس ہوتا ہے
کہ اس کی گردن میں کنواری گھنٹی بندھی ہے
جس کی آواز اسے مقدس زمینوں
کی سیر کراکر لاتی ہے
اور وہ ہر بار اپنے اندر ایک نئے وجود
کی سرسراہٹ پاتی ہے
اس کی ریتیلی آنکھوں میں
اگرچہ ہر قوت کی لہر دم توڑ چکی ہے
لیکن دور دور تک پھیلی
سنگ لاخ اور سرخ زمینوں سے گزرتے ہوئے
اس نے وہ کچھ دیکھ رکھا ہے
جسے وہ کتاب کرلے تو
اپنے لکھے ہوئے کو
— خود اساطیری داستانیں کہہ کر مسکرادے

تذبذب میں پڑا ہوا آئینہ
اس کی مسکان اور
لیمو چاٹنے کے بعد میچی ہوئی آنکھوں میں
— زیادہ بڑی جان لیوا کا فیصلہ نہیں کرپاتا

لیمو کی کھٹاس
مرمر کی سلوں پر
ہمیشہ ادھورے سپنوں کے نقوش ڈالتی ہے
جب وہ انہیں مکمل کرنے کے لیے
مانوس گلیوں میں نکلتی ہے
تو اس کی مسکراہٹ
آئینے کی بے خبری پر روتی ہے
٭٭

Read the rest of this entry

!کی سال گرہ پر…….


روشن سکے

!کی سال گرہ پر…….

جس موڑ پر
سادگی، سندرتا سے ہم آغوش ہوتی ہے
عین اُسی جگہ میں نے اس جوہر کو پایا
جسے لوگ عموماً محبت کا نام دیتے ہیں
لیکن میں اسے فطرت سے تعبیر کرکے
امکانات کی ایک نئی دنیا بساتا ہوں
اوراسے کسی سانچے میں قید کرنے کی
جسارت نہیں کرسکتا
کیوں کہ
مجھ پر یہ حقیقت برسوں کی ریاضت سے کھل چکی ہے
کہ اپنے اندر سورجوں کی طاقت رکھنے والے ذرّے
کبھی ذرّے سمجھ کر قید نہیں کیے جاسکتے
بظاہر ذرّے نظر آنے والے ان جوہروں کے ساتھ
جب قید کرنے کے لیے چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے
تو یہ برافروختہ ہوکر بے صدا پھٹ پڑتے ہیں
اور انسان پر اپنی حقارت کھل جاتی ہے

جس مقام پر میں
جوہرشناسی کے مسرت ترین تجربے سے گزرا
اس مقام پر ایک ایسا شناختی روشن ہالہ بن چکا ہے
جسے دیکھنے سے ربِّ محبت کی دی ہوئی آنکھ
قاصر معلوم ہوتی ہے
کیوں کہ انسانی وجود میں
دیکھنے کے وصف کے لیے صرف آنکھ ہی نہیں رکھی گئی
بلکہ ماتھے پر روشنی کا سکہّ
اسے وقت کے سرد و گرم سے لے کر
درون ِ ذات کی تاریکیوں تک کی خبر دیتا رہتا ہے
سو، وہ روشن ہالہ
کسی کھوٹے سکے جیسی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا
بلکہ اس کے لیے کائناتی معیشت میں کارآمد
روشنی کے سکوں کی ضرورت پڑتی ہے
اور یہ روشن سکے صرف انہی کو ملتے ہیں
جو اپنی نگاہوں کو پاک رکھنے کے فن میں طاق ہوجاتے ہیں

جوہر ِ حقیقی کی حقیقت یہی ہے
کہ وہ اشیا کو اپنی جانب کھینچتا ہے
اس لیے فطرت مجھ پر یہ خیال اسی طرح القا کرتی ہے
کہ اے، ایک دوسرے سے محبت کرنے والے انسانو
محبت تمھارے لیے ایک انوکھا تجربہ ضرور ہوسکتا ہے
لیکن انجام ِ کار
جب تم خود کو ایک حقیر ذرّے کی طرح دیکھتے ہو
تو محبت کے مقام سے کٹ کر حیرت کے مقام پر پہنچتے ہو
اور اس طرح اس روشن ہالے کو دیکھنے سے محروم ہوجاتے ہو
جسے دیکھنے کے لیے بہرحال
!کائناتی معیشت کے سکوں کی روشنی درکار ہوتی ہے

Roshan Sikkay!

Jis moR par
Saadgi, sundartaa say ham-aaghosh hoti hay
Aen usi jaga main nay os Johar ko paayaa
Jisay log umooman Muhabbat ka naam detay hain
Lekin main osay Fitrat say tabeer kar-k

Imakanaat ki aek nayi dunya basata hoN
Aor Usay kisi saanchay main qaid karnay ki jisaarat nahi karsakta
KioN-k
Mujh par ye haqeeqat, barsoN ki riyazat say khul chuki hay
K apnay andar SoorajoN ki taaqat rakhnay walay zarray
Kabhi kabhi zarray samajh kar qaid nahi kiye jasaktay
bazahir zarray nazar aanay walay in joharoN k saath
Jab qaid karnay k liye chaiR chaaR ki jaati hay
Tu ye bar-afrokhta hokar bay-sada phat paRtey hain
Aor insaan par apni haqarat khul jaati hay

Jis maqaam par main

johar-shanasi k masarrat-tareen tajarbay say guzra
Us maqaam par aek aesa shanakhati roshan hala ban chuka hay
Jisay dekhnay se Rabb-e-muhabbat ki di hoi aankh
Qaasir maloom hoti hay!
Kion-k insani wajood main
Dekhnay k wasf k liye sirf aankh hi nahi rakhi gayi
Bal-k maathay par roshni ka sikka
usay waqt k sard-o-garm say lekar
Daroon-e-zaat ki tareekioN tak ki khabar deta rehta hay
So, wo roshan hala
Kisi khotay sikkay jesi aankh say nahi dekha jasakta
Bal-k os k liye kayinaati ma’eeshat main kaaramad
Roshni k sikkoN ki zaroorat parti hay
Aor ye roshan sikkay sirf unhi ko miltay hain
Jo apnii nigaahoN ko pak rakhnay k fun main taaq hojatay hein

Johar-e-haqeeqi ki haqeeqat yahi hay
K wo ahsyaa ko apni jaanib khenchta hay
Is liye fitrat mujh par ye khayal isi taraH alqa karti hay
K, A, aek doosray say muhabbat karnay walay insaano
Muhabbat tumharay liye aek anokha tajarba zaroor hosakta hay
Lekin anjaam-e-kaar
Jab tum khud ko aek haqeer zarray ki taraH dekhtay ho
Tu muhabbat k maqaam say kat kar herat k maqaam par pohnchtay ho
Aor is taraH os roshan halay ko dekhnay say mahroom hojatay ho
Jisay dekhnay k liye baharhaal
Kayinaati ma’eeshat k sikkoN ki roshni darkaar hoti hay!

%d bloggers like this: