Blog Archives

لباس


♣ لباس ♣

ایک سہانی صبح
سرہانے مرجھایا پھول دیکھا
ملال گھیرتے وقت
ہوا نے بتایا
یہ کل رات تک کِھلا تھا
صرف ایک رات کے سفر سے ہار گیا
میرا دل اس خیال سے دھڑکا
راتوں کا سفر بہت ہلاکت خیز ہوتا ہے
پھول بدن کو اٹھاکر
باغیچے کی کیاری کی مٹی پر
کسی کتبے کی طرح رکھا
پلٹتے سمے
ایک پھول نے مسکراکرکہا
ملول مت ہو
میری مسکراہٹ مستعار لے لو
تازہ دم ہوکر
امید کا نیا لباس پہن لو

 

Libas

Ak suhani subh
Sarhanay murjhaya phool dekha
Malaal ghairtay waqt
Hawa nay bataya
Ye kal raat tak khila tha
Sirf ak raat k safar say haar gaya
Mera dil is khayal say dhaRka
Raton ka safar bohot halakat khaiz hota hay
Phool badan ko utha kar
Bagheechay ki kiyari ki mitti par
Kisi kutbay ki tarah rakha
Palat’tay samay
Aik phool nay muskura kar kaha
Malool mat ho
Meri muskurahat musta’ar lelo
Taza dam hokar
Umeed ka naya libas pehen lo

تخلیق کار مگن ہے


تخلیق کار مگن ہے

محبت کے وہ لمحے
جن کے قدموں سے تذبذب سانپ کی طرح لپٹا ہے،
تخلیق کار چاہتا ہے کہ
تیقن کی سرزمین پراپنے نقوش بنائیں،
کیا کمزور اِرادوں کے پیچھے
کسی ہوش رُبا امکان کا جنم ہوسکتا ہے!
یا محض تخلیق کار کو اپنے کینوس کے سامنے
دیر سے بیٹھے بیٹھے کسی نئے
تجریدی تجربے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے!
وہ اپنی آنکھوں میں بچھی ہوئی
سرنگوں کے جال میں سرکتے
لہو کے تموّج کوانتظار کی گرمی سے
اُچھال رہا ہے،
جب کینوس پر واٹر کلر سے اسے مزیّن کرے گا
تو محبوب کی آنکھوں سے
دُمدار سیاروں جیسی پلکوں والا
اعتراف کتر لے گا،
اور صحرا کی ریت جیسی
لہروں والے ہونٹوں پر
مسکان کی دیر سے سوئی گھنٹی کو جگادے گا‘
تخلیق کار کیوں جانب دار نہیں رہ سکتا!
اپنے تخیّل اور تحیّر کو مجسم کرکے
جا بہ جا عکس در عکس کیوں پھیلاتا ہے!

……..اور
تخلیق کار بے نیازی سے
کینوس کے سامنے دیر سے بیٹھا
اپنی یکتائی برقرار رکھ کر
کہانی کو کسی نئے زاویے سے
معکوس کرنے میں مگن ہے!

بانجھ آنکھیں


A long free verse poem published in literary magazine quarterly Ijra – October to December 2013

 

بانجھ آنکھیں

جب بے نور آنکھوں کی پتلیاں
روشن ہونے لگتی ہیں
تو اندھی لڑکی پر
لرزہ خیز وارداتوں کے لیے مشہور
مانوس گلی میں لرزتے، پھیلتے
اَن دیکھے سایوں کا رمز کھلتا ہے
٭٭
قاتل مطمئن ہے
کہ اس نے گڈمڈ سایوں کے بیچ
سرخ ہوتا سایہ نہیں دیکھا ہے
لیکن اندھی لڑکی
ساری گواہیاں مردہ اعصاب کے ذریعے
دماغ کے اس خانے میں منتقل کرچکی ہے
جو لاچاری کے فلسفے سے مملو
ان گنت کتابوں پر مشتمل
لائبریری کا کام کرتا ہے
٭٭

اس نے ایک بار چمکتی سیاہی سے لکھا
جب تک نہر سے سپلائی جاری نہ ہو
واش بیسن کے اوپر اوندھا لٹکا
سنہری نل لاچاری کی تصویر بنا رہے گا
تم لوگوں نے انسانوں کے اذہان کو بھی
اچھی باتوں کی سپلائی بند کر رکھی ہے
اور معاشرہ لاچاری کی تصویر بن چکا ہے
معذوری کے بارے اس نے لکھا
اگر میری بصارت کی طرح
ہاتھ پیر اور دوسرے اعضا
چھین لیے جائیں
تب بھی چاندی کی قلعی میں لپٹا
معذوری کا تمغہ سینے پر سجانے نہیں دوں گی
تم لوگ اپنی اپنی ڈکشنریوں میں موجود
ہزاروں گم راہ کن معانی درست کرکے
لاکھوں انسانوں کو معذور ہونے سے بچاسکتے ہو
وہ لکھتی ہے
معذور تو وہ ہے
جو اچھی بات سوچنے سے قاصر ہے

٭٭

اس کی تیز سماعت
لفظ فلسفے سے اوّل اوّل آشنا ہوئی
تو اسے بہت اچھا لگا
ممکن ہے اس سمے
صوتی جمالیات کا کوئی غیر مرئی طائفہ
—اس مقام سے گزرا ہو

اور اسے محسوس ہوا ہو
کہ بالذات کسی جمالیاتی عنصر سے خالی
یہ لفظ اُسے اسی طرح پکار رہا ہے
جس طرح
اس کے سفید و سیاہ خوابوں میں
عجیب و غریب چیزیں
جنہیں بیان کرنے کے لیےاُسے
لغت اپنا کوئی لفظ مستعار دینے پرتیار نہیں ہوتی
اس نے رنگوں کے بارے سنا ضرور ہے
مگر وہ
اَن دیکھی اور اَن چھوئی چیز
اور اس کے دماغ میں موجود اجنبی تصور کے مابین
— کوئی ربط کس طرح پیدا کرے

چناں چہ اس سے قبل کے شورِ جرس
اسے کسی غیر مرئی بھنور
میں الجھادیتی
کسی کنواری اونٹنی کے گلے میں بندھی
گھنٹی کی آواز نے
اس کی سماعت کا نظام اچک کر
صحراؤں کی بین کرتی خاک کےنالوں سے
مانوس کردیا

وہ اپنی کنواری ڈکشنری کے لیے
بصری صحرائی الفاظ کا ایک ذخیرہ پاکر
بہت خوش ہوئی

اس نے کبھی کچھ نہیں دیکھا
لیکن اس کے ‘بصارت گھر’ کی پچھلی گلی سے
گزرنے والے مردہ راستے
نہ جانے کیسے اور کہاں سے
بہت ساری تصاویر
کسی سیٹلائٹ کی طرح کھینچ کر
پوری تفصیل کے ساتھ
لائبریری کا حصہ بنادیتے ہیں
٭٭
اندھی لڑکی اور”
قوت بصارت میں کوئی نسبت نہیں
جیسے صحرا میں اُگنے والی کھجور
اور اس کے گھر کے آنگن کے لیمو میں
”کوئی نسبت تخلیق نہیں کی جاسکتی
اس حقیقت کاادراک

صرف اندھی لڑکی تک محدود ہے
کہ اس کے موجود نادیدہ وجود کی کائنات میں
ہر دو کُرّوں کے درمیان
تخلیقی جوہر تیرتا رہتا ہے
کرب کے لمحات میں وہ اس جوہر سے
کُرّے تخلیق کرتی رہتی ہے
اندھی لڑکی کو محسوس ہوتا ہے
کہ اس کی گردن میں کنواری گھنٹی بندھی ہے
جس کی آواز اسے مقدس زمینوں
کی سیر کراکر لاتی ہے
اور وہ ہر بار اپنے اندر ایک نئے وجود
کی سرسراہٹ پاتی ہے
اس کی ریتیلی آنکھوں میں
اگرچہ ہر قوت کی لہر دم توڑ چکی ہے
لیکن دور دور تک پھیلی
سنگ لاخ اور سرخ زمینوں سے گزرتے ہوئے
اس نے وہ کچھ دیکھ رکھا ہے
جسے وہ کتاب کرلے تو
اپنے لکھے ہوئے کو
— خود اساطیری داستانیں کہہ کر مسکرادے

تذبذب میں پڑا ہوا آئینہ
اس کی مسکان اور
لیمو چاٹنے کے بعد میچی ہوئی آنکھوں میں
— زیادہ بڑی جان لیوا کا فیصلہ نہیں کرپاتا

لیمو کی کھٹاس
مرمر کی سلوں پر
ہمیشہ ادھورے سپنوں کے نقوش ڈالتی ہے
جب وہ انہیں مکمل کرنے کے لیے
مانوس گلیوں میں نکلتی ہے
تو اس کی مسکراہٹ
آئینے کی بے خبری پر روتی ہے
٭٭

Read the rest of this entry

سفید و سیاہ


سفید و سیاہ

***

تم خود کو جدیدتر کہتے ہو
مجھے تمھاری ہر ادا میں
ماضی کی کالی سفید دھاریاں نظر آتی ہیں
تم نظارے میں اس طرح محو ہو
کہ عقل کے روشن دروازے کھول نہیں پائے
میں نے جو دیکھا
اسے ایک التباس سمجھا
میرا قد اتنا چھوٹا ہے کہ
مجھ تک شبیہات پہنچنے میں
صدیاں گزرجاتی ہیں
ہر نیا آنے والا سایہ
میری چشم حیرت پر خنداں ہے

Sufaid-o-Siyaah

Tum khud ko jadeed-tar kehtay ho
Mujhey tumhari har ada main
Maazi ki kaali-sufaid dhaariyaaN nazar aati hain
Tum nazaaray main is tarah mehw ho
K aql k roshan darwazay khol nahi paatay
Main nay jo daikha
Osay ak iltibaas samjha
Mera qad itna chota hay k
Mujh tak shabeehaat pohnchnay main
SadiyaaN guzar jaati hain
Har naya anay wala saya
Meri chashm-e-hairat par KhandaaN hay

ان گنت حوالوں کی اداسی


اَن گنت حوالوں کی اداسی

سَت رنگی آنکھوں میں پِنہاں شوخی
آفاقی حوالوں کے ساتھ
زندگی کے رَمز کا رَس ٹپکاتی ہے
!آفاقیت کیا ہے
تیری آنکھوں کی شکتی
جو دو کناروں کو جوڑے رکھتی ہے
مونا لیزا کیا جانے
جدید دور کا انسان
آنکھوں سے بہنے والی مسکراہٹ
اُس کے چہرے کے نقوش میں تلاش کرتا ہے
اور کایناتی حوالوں سے
!اُسے سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہے
تیری آنکھوں کی دِل کش پتلیاں
فطرت کے جتنے حوالے سمیٹ کر
اپنے گردوپیش پر سحر پھونک سکتی ہیں
وہ سب میری شاعری میں مل جائیں گے
لیکن اس حقیقت کا بطلان ممکن نہیں
کہ
میری شاعری اورتیری آنکھوں کے رنگ
کبھی مدغم نہیں ہوسکیں گے
٭٭٭

An-ginat HawaaloN ki Udasi

Sat-rangi aankhoN main pinhaaN shokhi
Aafaaqi hawaaloN k sath
Zindagi k ramz ka rass tapkaati hay
Aafaaqiyat kia hay
Teri aankhoN ki shaktii
Jo do kinaaroN ko joRay rakhti hay
Mona Lisa kia jaanay
Jadeed daor ka insaan
AankhoN say behnay wali muskuraahat
Os ke chehray k naqoosh main talash karta hay
Aor kaayinaati hawaaloN say
Osay samajhnay ki koshish main masroof hay
Tairii aankhoN ki dilkash putliaaN
Fitrat k jitnay hawaalay samait kar
Apnay gard-o-paish par sehr phoonk sakti hain
Wo sab meri shayirii main mill jaayingay
Lekin is haqeeqat ka batlaan mumkin nahi
K
Meri shayirii aor teri aankhoN k rang
Kabhi madgham nahi hosakaingay

آئینہ تمھارے اندر ہے


آئینہ تمھارے اندر ہے

عالم جبروت کا نمایندہ
جنت ارضی پر اترکر
:درشت لہجے میں کہ رہا تھا
جس دن میں نے
تم سے تمھارا سایہ چھین لیا
اس دن تمھاری روح
تمھارے جسم سے ڈر کر بھاگ جائے گی
اس لمحے میرا خوف زدہ شریر یہ جانا
کہ میرا سایہ میری روح کے لیے آئینہ ہے
جس میں وہ سرشاری کے عالم میں
ہر لمحہ اپنا عکس دیکھتی رہتی ہے
رات کی چادر تلے میری روح
پژمردہ ہوکر گناہوں کی پناہ لینے کی طرف مائل ہوتی ہے
یہ میرے جسم کی کثافت اور غلاظت سے
بے خبر رہتی ہے
جس دم میں اپنے سائے سے کھلواڑ کھیلتا ہوں
اس سمے میری روح میں جواربھاٹا اٹھتا ہے
اس کا لہجہ جس دم نرم ہوا
:اس نے کہا
!اپنےسائے کی قدر کرو

Aayina tmharay andar hay

Aalam-e-jabroot ka numayinda
Jannat-e-arzi par utar kar
Durusht lehjay main keh raha tha:
Jis din main nay
Tum say tumhara saya cheen lia
Us din tumhari rooh
Tumharay jism say dar kar bhaag jaayegi
Us lamhay maira khof-zada shareer jaana
K miara saaya mairii rooh k liye aayina hay
Jis main wo sarshari k aalam main
Har lamha apna aks dekhti rehti hay
Raat ki chaadar talay mairii rooh
Pazmurda hokar gunahoN ki panah lenay ki taraf mayil hoti hay
Ye mairay jism ki kasafat aor ghalazat say
Bay-khabar rehti hay
Jis dam main apnay saaye say khilwaaR khailta hoN
Us samay mairii rooh main jwaar-bhaata uthta hay
Us ka lehja jis dam narm hoa
Us nay kaha:
Apnay saaye ki qadr karo!

قلب ماہیت


An Urdu translation of the English poem “Metamorphosis of the Heart” written by my friend Shaheen Sultan ‘Mashaal’

قلب ماہیت

میری سوچ کے تمام زاویے
ہرلمحہ منعکس ہوتی روشنیوں میں
سرگرداں ہیں
یہ جو طول و عرض
میرے اور تیرے درمیان
کسی نامعلوم نکتے پر جانے کب سے مرکوز ہیں
حقیقت یہیں کہیں آشکار ہے
لیکن چشم بینا پر

لہو کی روشنائی منقلب ہوکر
ہمارے خوابوں کے حاشیے اور لکیریں
تشکیل دینے کے عمل سے گزرنے لگی ہے
جو کل اور آج کے مابین
دھندلی سرحدوں کی طرح کھینچی گئی ہیں
آج، جسے ہم روشن تر بنانا چاہتے ہیں
ہم جانتے ہیں کہ انہی دھندلی سرحدوں نے ہمیں یکجا کیا ہے
لیکن ہم اس کے کناروں کو نمایاں کردینا چاہتے ہیں

میری سانسوں، ریشوں اور دل کے ٹکڑوں پر
لگنے والے زخموں سے درد بہ رہا تھا
تم نے میرے دل سے ایک ایک کرکے
نرمی سے سارے کانٹے چن لیے
اور اس پرمرہم رکھ کر ایک پنکھڑی میں لپیٹ لیا
اور مجھے ایک ایسے وقفے سے آشنا کردیا
جو موسیقی کے دو سُروں کے مابین
کایناتی وقفے جیسا تھا
مجھے لگا
اُرفِی یَس بربط لیے نمودار ہوا ہے
اوریُوریڈِ سی کی زندگی کے لیے حُجّت کرنے لگا ہے

آدھی رات کے سورج تلے
میری ہتھیلی مراقبے کی حالت میں پھیلی ہے
میری حُجّت
سُرمے کی سیاہ لکیروں کے لیے ہے
جو میری آنکھوں کو اس قابل بناسکیں
کہ میں نئی مہربان روشنی کا استقبال کرسکوں
تاکہ دل کی قلب ماہیت ہوسکے

Qalb-e-maahiyat

Meri soch k tamaam zaaviye
Har lamha mun’akis hoti roshnioN main
SargardaaN hain
Ye jo tool-o-arz
Meray aor tairay darmiaan
Kisi naamaloom nuktay par jaanay kab say markuz hain
Haqeeqat yaheeN kaheeN aashkaar hay
Lekin chashm-e-beena par

Luhoo ki roshnaayi munqalib hokar
Hamaaray khwaboN k haashiye aor lakeerain
Tashkeel denay k amal say guzarnay lagi hay
Jo kal aor aaj k maabain
Dhundlii sarhadoN ki tarah khainchii gayi hain
Aaj, jisay hum roshan-tar banana chahtay hain
Hum jaantay hain k inhi dhundlii sarhadoN nay hamain yakja kia hay
Lekin hum is k kinaroN ko numayaN kardena chahtay hain

Meri sansoN, reshoN aor dil k tukRoN par
Lagnay walay zakhmoN say dard beh raha tha
Tum nay meray dil say aik aik kar-k
Narmi say saaray kaantay chun liye
Aor os par marham rakh kar aik pankhRi main lapait lia
Aor mujhay aik aesay waqfay say aashna kardia
Jo moseeqii k do suroN k maabain
Kayinati waqfsay jesa tha
Mujhay laga
Orpheus barbat liye namudaar hua hay
Aor Eurydice ki zindagi k liye hujjat karnay laga hay

Aadhi raat k suraj talay
Mairi hathailii maraqibay ki haalat main phailii hay
Meri hujjat
Surmay ki siyaah lakeeroN k liye hay
Jo meri aankhon ko is qaabil banasakain
k main nayi mehrbaan roshni ka istiqbal karsakooN
Taa-k dil ki qalb-e-maahiyat hosakay!

!کی سال گرہ پر…….


روشن سکے

!کی سال گرہ پر…….

جس موڑ پر
سادگی، سندرتا سے ہم آغوش ہوتی ہے
عین اُسی جگہ میں نے اس جوہر کو پایا
جسے لوگ عموماً محبت کا نام دیتے ہیں
لیکن میں اسے فطرت سے تعبیر کرکے
امکانات کی ایک نئی دنیا بساتا ہوں
اوراسے کسی سانچے میں قید کرنے کی
جسارت نہیں کرسکتا
کیوں کہ
مجھ پر یہ حقیقت برسوں کی ریاضت سے کھل چکی ہے
کہ اپنے اندر سورجوں کی طاقت رکھنے والے ذرّے
کبھی ذرّے سمجھ کر قید نہیں کیے جاسکتے
بظاہر ذرّے نظر آنے والے ان جوہروں کے ساتھ
جب قید کرنے کے لیے چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے
تو یہ برافروختہ ہوکر بے صدا پھٹ پڑتے ہیں
اور انسان پر اپنی حقارت کھل جاتی ہے

جس مقام پر میں
جوہرشناسی کے مسرت ترین تجربے سے گزرا
اس مقام پر ایک ایسا شناختی روشن ہالہ بن چکا ہے
جسے دیکھنے سے ربِّ محبت کی دی ہوئی آنکھ
قاصر معلوم ہوتی ہے
کیوں کہ انسانی وجود میں
دیکھنے کے وصف کے لیے صرف آنکھ ہی نہیں رکھی گئی
بلکہ ماتھے پر روشنی کا سکہّ
اسے وقت کے سرد و گرم سے لے کر
درون ِ ذات کی تاریکیوں تک کی خبر دیتا رہتا ہے
سو، وہ روشن ہالہ
کسی کھوٹے سکے جیسی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا
بلکہ اس کے لیے کائناتی معیشت میں کارآمد
روشنی کے سکوں کی ضرورت پڑتی ہے
اور یہ روشن سکے صرف انہی کو ملتے ہیں
جو اپنی نگاہوں کو پاک رکھنے کے فن میں طاق ہوجاتے ہیں

جوہر ِ حقیقی کی حقیقت یہی ہے
کہ وہ اشیا کو اپنی جانب کھینچتا ہے
اس لیے فطرت مجھ پر یہ خیال اسی طرح القا کرتی ہے
کہ اے، ایک دوسرے سے محبت کرنے والے انسانو
محبت تمھارے لیے ایک انوکھا تجربہ ضرور ہوسکتا ہے
لیکن انجام ِ کار
جب تم خود کو ایک حقیر ذرّے کی طرح دیکھتے ہو
تو محبت کے مقام سے کٹ کر حیرت کے مقام پر پہنچتے ہو
اور اس طرح اس روشن ہالے کو دیکھنے سے محروم ہوجاتے ہو
جسے دیکھنے کے لیے بہرحال
!کائناتی معیشت کے سکوں کی روشنی درکار ہوتی ہے

Roshan Sikkay!

Jis moR par
Saadgi, sundartaa say ham-aaghosh hoti hay
Aen usi jaga main nay os Johar ko paayaa
Jisay log umooman Muhabbat ka naam detay hain
Lekin main osay Fitrat say tabeer kar-k

Imakanaat ki aek nayi dunya basata hoN
Aor Usay kisi saanchay main qaid karnay ki jisaarat nahi karsakta
KioN-k
Mujh par ye haqeeqat, barsoN ki riyazat say khul chuki hay
K apnay andar SoorajoN ki taaqat rakhnay walay zarray
Kabhi kabhi zarray samajh kar qaid nahi kiye jasaktay
bazahir zarray nazar aanay walay in joharoN k saath
Jab qaid karnay k liye chaiR chaaR ki jaati hay
Tu ye bar-afrokhta hokar bay-sada phat paRtey hain
Aor insaan par apni haqarat khul jaati hay

Jis maqaam par main

johar-shanasi k masarrat-tareen tajarbay say guzra
Us maqaam par aek aesa shanakhati roshan hala ban chuka hay
Jisay dekhnay se Rabb-e-muhabbat ki di hoi aankh
Qaasir maloom hoti hay!
Kion-k insani wajood main
Dekhnay k wasf k liye sirf aankh hi nahi rakhi gayi
Bal-k maathay par roshni ka sikka
usay waqt k sard-o-garm say lekar
Daroon-e-zaat ki tareekioN tak ki khabar deta rehta hay
So, wo roshan hala
Kisi khotay sikkay jesi aankh say nahi dekha jasakta
Bal-k os k liye kayinaati ma’eeshat main kaaramad
Roshni k sikkoN ki zaroorat parti hay
Aor ye roshan sikkay sirf unhi ko miltay hain
Jo apnii nigaahoN ko pak rakhnay k fun main taaq hojatay hein

Johar-e-haqeeqi ki haqeeqat yahi hay
K wo ahsyaa ko apni jaanib khenchta hay
Is liye fitrat mujh par ye khayal isi taraH alqa karti hay
K, A, aek doosray say muhabbat karnay walay insaano
Muhabbat tumharay liye aek anokha tajarba zaroor hosakta hay
Lekin anjaam-e-kaar
Jab tum khud ko aek haqeer zarray ki taraH dekhtay ho
Tu muhabbat k maqaam say kat kar herat k maqaam par pohnchtay ho
Aor is taraH os roshan halay ko dekhnay say mahroom hojatay ho
Jisay dekhnay k liye baharhaal
Kayinaati ma’eeshat k sikkoN ki roshni darkaar hoti hay!

بے بسی


بے بسی

محبت میں اپنے اونچے منصب سے اتر کر
میں تیری چاہت کی منزل کی طرف
ایک سال خوردہ کچھوے پر
باگیں کسنے کے بعد
ممکنہ تیزرفتاری سے محو سفر ہوچکا ہوں
کیا تیری بنائی ہوئی آگ، مٹی، ہوا اور پانی
یہ سب دیکھ کر
تجھ سے سرگوشی کرنے کی جراءت کرتے ہیں
کہ ولادت کے دن سے
ہماری گرفت میں آیا ہوا
تیرا دیوانہ کتنا بے بس ہے!
میری دیوقامت سواری
جب پانی پر اپنا سفر شروع کرتی ہے
تو مجھے خیال گزرتا ہے کہ
کبھی اس پر تیرا بھی تخت ہوا کرتا تھا
اور میں کچھوے کے سخت خول پر
اپنی تمام تر شکستگی کے باوجود
خود کو باربار پھسلنے سے بچا کر
اُس تخت کے بارے میں سوچتا ہوں
تو حیران ہوتا ہوں کہ
کیا وہ بھی کسی کچھوے کے خول کا بنا تھا
یا تو نے اُسے مٹی سے بنایا تھا
جیسا کہ مجھے مٹی سے گوشت پوست میں تبدیل کرکے
اور اپنا لافانی لمس عطا کرکے
عناصر اربع کے حصار میں قیدی کی طرح ڈال دیا تھا
اور اس کے در پر وقت کا بے رحم تالا مزین کردیا
اور اس قیدخانے کو
ستاروں سے روشن کرنے کے بعد
تنہائی کی سنگین راتوں کو جنم دیا
اگر ہم کسی تخلیق کار کے اندر پلنے والے خیال کے لیے۔۔۔۔
جو بالآخر تخلیق کار کے وجود سے باہر
ایک فن پارے کی صورت میں ظہور کرتا ہے
اگرچہ اس کا حقیقی عکس اس کے اندر
کسی گوشے ہی میں محفوظ رہتا ہے ۔۔۔۔
لفظ جنم استعمال کرسکتے ہیں تو
تو پھر میں کہ سکتا ہوں کہ
تنہائی کو جنم دینے والی تیری ذات ہے
جس کا پرتو مجھ جیسے ہر خاک زادے کے اندر

تباہی مچاتا رہتا ہے
خاک سے اپنی نسبت ہونے کے باوصف
میں اس خوف سے کہ کہیں ڈوب نہ جاؤں
کچھوے کے سخت خول پر
اپنی ٹانگوں کی گرفت مزید سخت کردیتا ہوں
کیا یہ عناصر اربع تجھ سے
میری بے بسی کے بارے میں سرگوشیاں کرتے ہیں
ایسی بے بسی جو
ڈوب جانے کا خوف طاری کرکے
تنہائی کی اس دیوقامت علامت کے ساتھ
مجھے نئے سرے سے چمٹنے پر مجبور کردیتی ہے!

Be-Basii

Muhabbat main apnay onchay mansab say neechay utar kar
Main teri chahat ki manzil ki taraf
Aek saal-khurda kachway par
BaagaiN kasnay k ba’d
Mumkina taizraftaarii k sath mahw-e-safar ho chuka hoN

in roman, continue reading

لمس


لمس

راگ پُروی کا لمس
کائناتی رگوں سے ٹپک کر
میرے فانی جسم کے ذرے ذرے میں
ایسے مل چکا ہے جیسے
روزِ ازل قدرت کے ہاتھوں
مشتِ خاک میں عرقِ تخلیق
اے لمس
آج تو میرا مخاطب ہے
ابدی لہر کی طرح
انسانوں کے گرد
بُنی جانے والی فضا میں
میرا وجود تیرے وجود کا متلاشی رہا ہے
تیرا وجود میرے وجود کو
اپنے نام کی طرح وہ لمس عطا کرتا ہے
جو درد اور سکون کے سنگم پر
لجلجے عرقِ تخلیق سے جنم لیتا ہے
اور اے لمس
میں تجھے
ایک وجود سے دوسرے وجود تک
تیرے سفر کے نہایت لطیف لمحات میں
کیوں نہ ٹھہر کر دیکھوں۔۔۔
کہ تجھے محسوس کرنے والے
جب ارتقائی جست بھرنے کی تمنا میں
اپنے تخلیقی سوتوں پر دیوانگی کے عالم میں
تیشہ چلاتے ہیں
اور خود میں پھوٹ بہنے کے لیے
کائنات کے عظیم الجُثہ غیر مرئ ایٹم کو
اپنے اندر پھاڑ دیتے ہیں
اور
تجھے دیکھنے کی منزل پر آتے ہیں
تو
مجسم خلش بن جاتے ہیں
اے لمس
تو ہمیشہ مسرت کے الوہی ململی پردوں میں
درد کیوں منتقل کرتا ہے۔۔۔

Lams

Raag Purvi ka lams
Kaayinaati ragoN say tapak kar
Meray faani jism k zarray zarray main
Aesay mil chuka hay jaisay
Roz-e-azal qudrat k hathoN
Musht-e-khaak main araq-e-takhleeq

in roman, continue reading

%d bloggers like this: