زمیں کی کشکول میں دعا ہے


غزل

بلند کتنی تری عطا ہے
حقیر کتنی مری وفا ہے

میں جان قربان تجھ پہ کردوں
خیال کتنا یہ جاں فزا ہے

یہ تیری میری محبتوں کا
خمار کتنا خرد کشا ہے

حدِ نشاطِ وصال کیا ہو
ذرا سی دوری بڑی سزا ہے

جنوں ہے جھوٹ اور جنوں بغاوت
یہ میرے جاناں کا فیصلہ ہے

مری شب ماہ تاب کی خیر
تمھارا سورج تو ڈھل چکا ہے

جو کھل رہے ہیں در آسماں میں
زمیں کی کشکول میں دعا ہے

یہ فرق ہے کہ گلی وہی ہے
ضمیر اپنا بھٹک رہا ہے

مجھے محبت تلاشنے دو
مریض دل کی یہی دوا ہے

Ghazal

Buland kitni tri ata hay
Haqeer kitni mri wafa hay

Main jaan qurbaan tujh pe kardooN
Khayal kitna ye jaaN-faza hay

Ye tairi mairi muhabbatoN ka
Khumaar kitna khirad-kusha hay

Had-e-nishat-e-wisaal kia ho
Zara si doori baRi saza hay

JunooN hay jhoot aor junoo baghawat
Ye meray jaanaN ka faisla hay

Mri shab-e-maahtaab ki khair
Tumhara sooraj tu dhal chuka hay

Jo khul rahay hain dar aasmaaN main
ZameeN ki kashkol main dua hay

Ye farq hay k gali wahi hay
Zameer apna bhatak raha hay

Mujhe muhabbat talashnay do
Mareez-e-dil ki yahi dawa hay

Rapt — the creator


Rapt  — the creator

The moments of love
with the confusion wrapping their feet
as if a serpent
Creator wants to move it to the land of certainty
to make its marks


can a staggering prospect be born
with the seed of weak will
or is it so that the creator by sitting for long
in front of the canvas, thinks
of a new abstract experiment


in the net of the tunnels spread in his eyes
he is undulating the moving blood
with the warmth of waiting
when he is done with the illustration
on the canvas with water colors,
he will pluck the confession
which has eyelashes like a comet
from the eyes of beloved
and awake the smile sleeping for long
on the lips,
resembling sand waves of a desert


Why the creator can’t be partial,
who embodies his imagination and entrancement
and spreading the reflections here and there
And ……
the creator sits long, indifferently
in front of canvas
maintaining his oneness
and reflects the story
with a new angle!

Rafiullah Mian

تخلیق کار مگن ہے


تخلیق کار مگن ہے

محبت کے وہ لمحے
جن کے قدموں سے تذبذب سانپ کی طرح لپٹا ہے،
تخلیق کار چاہتا ہے کہ یہ قدم تیقن کی سرزمین پر
اپنے نقوش بنائے،
کیا کم زور ارادوں کے پیچھے
کسی ہوش ربا امکان کا جنم ہوسکتا ہے،
یا محض تخلیق کار کو اپنے کینوس کے سامنے
دیر سے بیٹھے بیٹھے
کسی نئے تجریدی تجربے کی
ضرورت محسوس ہورہی ہے،
وہ اپنی آنکھوں میں بچھی ہوئی سرنگوں کے جال میں
سرکتے لہو کے تموّج کو
انتظار کی گرمی سے اچھال رہا ہے،
جب کینوس پر واٹر کلر سے اسے مزیّن کرے گا
تو محبوب کی آنکھوں سے دُم دار سیاروں جیسی
پلکوں والا اعتراف کتر لے گا،
اور صحرا کی ریت جیسی لہروں والے
ہونٹوں پر مسکان کی دیر سے سوئی
گھنٹی کو جگادے گا،
تخلیق کار کیوں جانب دار نہیں رہ سکتا،
اپنے تخیّل اور تحیّر کو مجسم کرکے
جا بہ جا عکس در عکس کیوں پھیلاتا ہے،
—اور
تخلیق کار بے نیازی سے دیر سے کینوس کے سامنے بیٹھا
اپنی یکتائی برقرار رکھ کر
کہانی کو کسی نئے زاویے سے
معکوس کرنے میں مگن ہے

انساں گزیدہ شہر کے خوابوں کی باس میں


غزل

انجان ریت میں مرے ہاتھوں سے پل گیا
بس ڈوبنے کو تھا کہ اچانک سنبھل گیا

اک تجربہ تھا، اس میں اگانے کنول گیا
آیا ہوا نہ پھر کبھی قسمت کا بَل گیا

نظروں نے کھایا بل وہ، کہ پھر ہٹ نہیں سکیں
خمیازہ تھا ترا، مری آنکھیں بدل گیا

برسوں مرا زمیں سے عقیدہ جڑا رہا
کج رو کی اک ادا سے جڑوں سے اچھل گیا

ہم لوگ اپنے خول میں سمٹے ہیں اس قدر
لمحوں کا سایہ دھوپ میں جلنے نکل گیا

اک شوق خود نمائی نے اکسا دیا اُسے
فن پارہ تھا مرا، مرے فن کو کچل گیا

میری ریاضتوں نے وفا کو جِلا تو دی
اُس بے وفا کے سامنے سارا عمل گیا

اے رقص جاں تجھے تو خبر ہے وجود کی
کیسا خلا تھا میرا ہنر جو نگل گیا

تپتی زمیں پہ پیاس سے آنکھیں ابل پڑیں
ظالم کو کتنا رنج تھا، ان کو مسل گیا

پہچان کی ہوس نے کیا اتنا نامراد
جبل مراد پر کوئی رکھ کر غزل گیا

انساں گزیدہ شہر کے خوابوں کی باس میں
اس طور بے کلی تھی، مرا جی مچل گیا

Ghazal

Read the rest of this entry

وجودِ شوق میں اقلیم غم اسی لیے ہے


غزل

ترے دمن میں تو  یارائے آب جو ہی نہیں
سمندروں میں سمٹنے کی آرزو ہی نہیں

وجودِ شوق میں اقلیم غم اسی لیے ہے
نہ جانے کتنے ہی عالم ہیں، ایک تو ہی نہیں

یہ رات جن سے مری، شعلہ سا بنی ہوئی ہے
یہ آنسوؤں کے بھی یاقوت ہیں، لہو ہی نہیں

میں آج بے سروساماں پڑا ہوں در پہ ترے
کلیجہ چیر کے رکھ دے، وہ ہاؤ ہو ہی نہیں

جو مجھ کو چاہے گا، آئے گا خود ہی کٹیا میں
کسی کا ہاتھ پکڑنے کی مجھ میں خو ہی نہیں

Ghazal

Teray daman main tu yaraay-e-aab-joo hi nahi
SamundaroN main simatne ki aarzoo hi nahi

 

Wujood-e-shoq main Iqleem-e-gham isi liye hey
Na jaane kitne hi aalam hain, ak tuu hi nahi

Ye raat jin say meri, shula saa bani hoi hey
Ye aansuooN k bhi yaaqoot hain, luhoo hi nahi

Main aaj bay-sar-o-saamaaN paRa hoN dar pe terey
Kaleeja cheer k rakh day, wo haao-hoo hi nahi

Jo mujh ko chahega, aayega khud hi Kutyaa main
Kisi ka haath pakaRne ki mujh main khuu hi nahi

Awaiting knock!


Awaiting knock!

****

In all seasons,
Whatever situation you have encountered,
To vanish reasons,
They are waiting for your knock -
The doors of thinking!

Rafiullah Mian

بانجھ آنکھیں


A long free verse poem published in literary magazine quarterly Ijra – October to December 2013

 

بانجھ آنکھیں

جب بے نور آنکھوں کی پتلیاں
روشن ہونے لگتی ہیں
تو اندھی لڑکی پر
لرزہ خیز وارداتوں کے لیے مشہور
مانوس گلی میں لرزتے، پھیلتے
اَن دیکھے سایوں کا رمز کھلتا ہے
٭٭
قاتل مطمئن ہے
کہ اس نے گڈمڈ سایوں کے بیچ
سرخ ہوتا سایہ نہیں دیکھا ہے
لیکن اندھی لڑکی
ساری گواہیاں مردہ اعصاب کے ذریعے
دماغ کے اس خانے میں منتقل کرچکی ہے
جو لاچاری کے فلسفے سے مملو
ان گنت کتابوں پر مشتمل
لائبریری کا کام کرتا ہے
٭٭

اس نے ایک بار چمکتی سیاہی سے لکھا
جب تک نہر سے سپلائی جاری نہ ہو
واش بیسن کے اوپر اوندھا لٹکا
سنہری نل لاچاری کی تصویر بنا رہے گا
تم لوگوں نے انسانوں کے اذہان کو بھی
اچھی باتوں کی سپلائی بند کر رکھی ہے
اور معاشرہ لاچاری کی تصویر بن چکا ہے
معذوری کے بارے اس نے لکھا
اگر میری بصارت کی طرح
ہاتھ پیر اور دوسرے اعضا
چھین لیے جائیں
تب بھی چاندی کی قلعی میں لپٹا
معذوری کا تمغہ سینے پر سجانے نہیں دوں گی
تم لوگ اپنی اپنی ڈکشنریوں میں موجود
ہزاروں گم راہ کن معانی درست کرکے
لاکھوں انسانوں کو معذور ہونے سے بچاسکتے ہو
وہ لکھتی ہے
معذور تو وہ ہے
جو اچھی بات سوچنے سے قاصر ہے

٭٭

اس کی تیز سماعت
لفظ فلسفے سے اوّل اوّل آشنا ہوئی
تو اسے بہت اچھا لگا
ممکن ہے اس سمے
صوتی جمالیات کا کوئی غیر مرئی طائفہ
—اس مقام سے گزرا ہو

اور اسے محسوس ہوا ہو
کہ بالذات کسی جمالیاتی عنصر سے خالی
یہ لفظ اُسے اسی طرح پکار رہا ہے
جس طرح
اس کے سفید و سیاہ خوابوں میں
عجیب و غریب چیزیں
جنہیں بیان کرنے کے لیےاُسے
لغت اپنا کوئی لفظ مستعار دینے پرتیار نہیں ہوتی
اس نے رنگوں کے بارے سنا ضرور ہے
مگر وہ
اَن دیکھی اور اَن چھوئی چیز
اور اس کے دماغ میں موجود اجنبی تصور کے مابین
— کوئی ربط کس طرح پیدا کرے

چناں چہ اس سے قبل کے شورِ جرس
اسے کسی غیر مرئی بھنور
میں الجھادیتی
کسی کنواری اونٹنی کے گلے میں بندھی
گھنٹی کی آواز نے
اس کی سماعت کا نظام اچک کر
صحراؤں کی بین کرتی خاک کےنالوں سے
مانوس کردیا

وہ اپنی کنواری ڈکشنری کے لیے
بصری صحرائی الفاظ کا ایک ذخیرہ پاکر
بہت خوش ہوئی

اس نے کبھی کچھ نہیں دیکھا
لیکن اس کے ‘بصارت گھر’ کی پچھلی گلی سے
گزرنے والے مردہ راستے
نہ جانے کیسے اور کہاں سے
بہت ساری تصاویر
کسی سیٹلائٹ کی طرح کھینچ کر
پوری تفصیل کے ساتھ
لائبریری کا حصہ بنادیتے ہیں
٭٭
اندھی لڑکی اور”
قوت بصارت میں کوئی نسبت نہیں
جیسے صحرا میں اُگنے والی کھجور
اور اس کے گھر کے آنگن کے لیمو میں
”کوئی نسبت تخلیق نہیں کی جاسکتی
اس حقیقت کاادراک

صرف اندھی لڑکی تک محدود ہے
کہ اس کے موجود نادیدہ وجود کی کائنات میں
ہر دو کُرّوں کے درمیان
تخلیقی جوہر تیرتا رہتا ہے
کرب کے لمحات میں وہ اس جوہر سے
کُرّے تخلیق کرتی رہتی ہے
اندھی لڑکی کو محسوس ہوتا ہے
کہ اس کی گردن میں کنواری گھنٹی بندھی ہے
جس کی آواز اسے مقدس زمینوں
کی سیر کراکر لاتی ہے
اور وہ ہر بار اپنے اندر ایک نئے وجود
کی سرسراہٹ پاتی ہے
اس کی ریتیلی آنکھوں میں
اگرچہ ہر قوت کی لہر دم توڑ چکی ہے
لیکن دور دور تک پھیلی
سنگ لاخ اور سرخ زمینوں سے گزرتے ہوئے
اس نے وہ کچھ دیکھ رکھا ہے
جسے وہ کتاب کرلے تو
اپنے لکھے ہوئے کو
— خود اساطیری داستانیں کہہ کر مسکرادے

تذبذب میں پڑا ہوا آئینہ
اس کی مسکان اور
لیمو چاٹنے کے بعد میچی ہوئی آنکھوں میں
— زیادہ بڑی جان لیوا کا فیصلہ نہیں کرپاتا

لیمو کی کھٹاس
مرمر کی سلوں پر
ہمیشہ ادھورے سپنوں کے نقوش ڈالتی ہے
جب وہ انہیں مکمل کرنے کے لیے
مانوس گلیوں میں نکلتی ہے
تو اس کی مسکراہٹ
آئینے کی بے خبری پر روتی ہے
٭٭

Read the rest of this entry

سفید و سیاہ


سفید و سیاہ

***

تم خود کو جدیدتر کہتے ہو
مجھے تمھاری ہر ادا میں
ماضی کی کالی سفید دھاریاں نظر آتی ہیں
تم نظارے میں اس طرح محو ہو
کہ عقل کے روشن دروازے کھول نہیں پائے
میں نے جو دیکھا
اسے ایک التباس سمجھا
میرا قد اتنا چھوٹا ہے کہ
مجھ تک شبیہات پہنچنے میں
صدیاں گزرجاتی ہیں
ہر نیا آنے والا سایہ
میری چشم حیرت پر خنداں ہے

Sufaid-o-Siyaah

Tum khud ko jadeed-tar kehtay ho
Mujhey tumhari har ada main
Maazi ki kaali-sufaid dhaariyaaN nazar aati hain
Tum nazaaray main is tarah mehw ho
K aql k roshan darwazay khol nahi paatay
Main nay jo daikha
Osay ak iltibaas samjha
Mera qad itna chota hay k
Mujh tak shabeehaat pohnchnay main
SadiyaaN guzar jaati hain
Har naya anay wala saya
Meri chashm-e-hairat par KhandaaN hay

UcryN


Crisis in Ukraine goes worse!

Crisis in Ukraine goes worse!

My Pencil Sketchs

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,148 other followers

%d bloggers like this: